عاشقی دل لگی نہیں ہوتی
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiگر محبت جو کی نہیں ہوتی
ایسی حالت مری نہیں ہوتی
دل لگایا تو روگ پایا ہے
عاشقی دل لگی نہیں ہوتی
ہے کسک دل میں جاگزیں ورنہ
بے سبب بے کلی نہیں ہوتی
اشک پیہم نصیب ہوں جن کے
اُن لبوں پہ ہنسی نہیں ہوتی
غم رفیقِ حیات ٹھہرا ہے اب
خوشی سے خوشی نہیں ہوتی
وجہِ تسکیں اجل بنے تو بنے
مہرباں زندگی نہیں ہوتی
عشق پنہاں ہے میری فطرت میں
یونہی یہ شاعری نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






