عافیہ بی کو رہائ کب ملے گی۔۔۔۔۔۔
Poet: zeest.sun By: zeest.sun, u a eاے زمانے کے خداؤ یہ بتاؤ
عافیہ بی کو رہائ کب ملے گی
بند تالے والی قسمت
کب کھلے گی؟
کیا ھمیشہ ہی قفس میں
وہ رہیں گی
ان کی ماں بہنیں یہ کب تک
غم سہیں گی
عدل کی زنجیر بولو
کب ہلے گی۔۔۔
کاش کوئ غیب سے آئے مدد
ورنہ انسانوں میں اتنا دم کہاں
ہم امیر شہر سے اب کیا کہیں
وہ امیر شہر وہ جہاں پناہ
ان میں اتنا دم کہاں
ان کے لب سلے ہوئے
وہ دشمنوں سے ملے ہوئے
وہ انصاف کی بات کریں گے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






