عام ہر سمت مرے عشق
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Kuala Lampurکیسی تقصیریں ہوئی ہیں، کیسی تعزیریں ہوئیں
عام ہر سمت مرے عشق کی تفسیریں ہوئیں
مجھ سے ملنے کے لیے اب تو چلے آؤ صنم
میرے پاؤں میں تو حالات کی زنجیریں ہوئیں
جب سے دیکھا ہے تجھے میں نے سرِ راہ گزر
بس اسی دن سے مرے حُسن کی توقیریں ہوئیں
حاکمِ وقت کبھی تو نے ادھر دیکھا ہے
بےردا خطہ ءِ کشمیر میں ہمشیریں ہوئیں
میں نے غربت میں بھی سیکھا ہے محبت کرنا
تیرے قبضے میں تو نفرت کی یہ جاگیریں ہوئیں
تو نے ہر خط میں مجھے اپنا لکھا تھا شاعر
کیسے محفوظ مرے پاس وہ تحریریں ہوئیں
ہم کو مجبوریءِ دوراں نہ جتا اے وشمہ
اور بھی ترکِ ملاقات کی تدبیریں ہوئیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






