عجب خواب دیکھا ہے کل رات میں نے
Poet: فاروق نور By: فاروق نور , Burhanpurعجب خواب دیکھا ہے کل رات میں نے
عجب ایک دنیا ہے آباد جس میں
عجب سا سماں ہے عجب سی فزاں ہے
عجب سی زمیں ہے عجب آسماں
کئی میل پھیلا ہوا ایک جنگل
وہ جنگل کہ جس میں بہت دور تک بھی
کہیں زندگی کا ہے امکان کوئی
نہ کوئی پتہ ہے
نباتات ہیں نہ جمادات کوئی
نہ حیوان ہیں یاں نہ انسان کوئی
فقط ایک ویرانی حد نظر تک نظر آ رہی ہے
مگر ایک دریا وہیں پر رواں ہے
وہ دریا کہ جس میں ہیں گزرے دنوں کے کئی راز پنہاں
اسی کے کنارے پہ تنہا ہراساں
میں کب سے کھڑا ہوں
اسے پوچھتا ہوں
یہ جنگل ہے ویران و سنسان جتنا
یہ پہلے کہاں تھا
کہ پہلے تو اتنی اداسی نہیں تھی
یہاں زندگی تھی
وہ پودے وہ سبزے وہ ندیاں وہ جھرنے
درخت اور درختوں کی شاخوں پہ گاتے ہوئے وہ پرندے
وہ سب کچھ کہاں ہے؟
وہ گل رو گل اندام و گل بند میرا
مرے ساتھ میں آیا کرتا تھا اکثر
کنارے پہ تیرے
وہ آخر کہاں ہے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






