عجب طبعیت کے مالک بنے اک بار ہم دیدار کر کے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadعجب طبعیت کے مالک بنے اک بار ہم دیدار کر کے
دیکھ کر تجھے چمن میں آئے ہم شاید بہار کر کے
محفل کو چھوڑ دیا ہے تنہائی نے دل مول لیا ہے
سانس لینا بھولے ہم عشق تیرا اختیار کر کے
خیالوں میں تجھے یاد کرنا حقیقت میں پیار کرنا
خود کو تجھ میں کھو دیا ہے ہم نے تم سے پیار کر کے
تلاش خود کو کر رہا ہوں جیتے جی مر رہا ہوں
چاہت میں جل رہا ہوں سکون ملے گا اظہار کر کے
گیا وہ تو خزاں آئی، آئے گا پھر وہ بہار بن کر
بڑا قرار ملا ساجد اپنوں کا ہمیں انتظار کر کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






