عجیب لڑکی ھوں خود کو جلانا چاھتی ھوں
Poet: By: M.Z, karachiعجیب لڑکی ھوں خود کو جلانا چاھتی ھوں
میں خود کو رکھ کے کہیں بھول جانا چاھتی ھوں
میرے نصیب کی خوشیاں بھی کب ملی مجھ کو
بس اب تو عمر بھر آنسو بھانا چاھتی ھوں
نجانے کتنی محبت ھے رنج و غم سے مجھے
کوئی بھی درد ھو دل میں چھپانا چاھتی ھوں
بہا بہا کے یہ آنسو بکھر چکی ھوں بھت
سمٹ کے ذات میں اب مسکرانا چاھتی ھوں
جسے اک عمر دل میں چھپا کے رکھا ھے
وہ راز آج میں سب کو بتانا چاھتی ھوں
وھی ھے یاد جو اچھا ھے لوگوں نے
باقی سارے ستم بھول جانا چاھتی ھوں
مجھے زمانے نے پتھر سمجھ لیا ھے
میں اک لڑکی ھوں سب کو بتانا چاھتی ھوں
جو مجھ سے روٹھ چکی ھیں زمانے کی خوشیاں
تو میں بھی ان کوشیوں سے روٹھ جانا چاھتی ھوں
تو اپنے دل کے ھر درد کو کھول دے
میں درد بن کر تیرے دل میں آنا چاھتی ھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






