عزیز ہم کو کہ شاید سر نہیں ہے۔۔۔
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiبہم بے شک کہ مال و زر نہیں ہے
چلو کھونے کا دل میں ڈر نہیں ہے
نظر عادی ہو استبداد کی جب
نیا ہر گز کوئی منظر نہیں ہے
ہمیں حاکم کی مِدح سے حذر ہے
عزیز ہم کو کہ شاید سر نہیں ہے
جبیں جھُکتی ہے رب کے سامنے بس
یہ سجدہ بہرِ سنگ و شر نہیں ہے
بہت مُشکل ہے سچ کی راہ چلنا
یہ راہِ خار ہے مَر مَر نہیں ہے
ریاکاروں سے ہے دُوری ہی اچھی
خوشامد، شے کوئی برتر نہیں ہے
بہت مل جاتے ہیں صورت میں ارفع
حسینوں کا نگر، بنجر نہیں ہے
جہاں چاہیں وہاں عُشّاق ٹہریں
ہے کیا غم، وا، جو اُس کا دَر نہیں ہے؟
غَرَض ہوتی ہے تو مِلتا ہے مُجھ سے
وہ میرا ہے مگر اکثر نہیں ہے
انا کو یار سمجھا تھا خودی ہے
سو اُس کا حال اب بہتر نہیں ہے
صبا لے جاتی ہے پیغام اُن کا
مُیسّر جن کو نامہ بَر نہیں ہے
نہاں رکھتا ہوں طُوفانوں کو دِل میں
جو اندر حال ہے باہر نہیں ہے
بہت کُچھ زیست سے پایا ہے ہم نے
مگر اِک دستیاب سرور نہیں ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






