عشق الہی
Poet: nosheen fatima abdulhaqq بقلم خود By: nosheen fatima abdulhaqq, jeddah saudi arabآرائش نہ زیبائش سےہوتی ہےیہاں،خوبصورتی من کی
تقوی وعشق الہی میں ہی ہے پنہاں،خوبصورتی من کی
لا الہ الا اللہ کو ، دل میں بسا کے دیکھ تو
پختہ ہوہردم یقیں یہ،اللہ بس ایک تو
عمر بھر رہے گی ہر دم جواں،خوبصورتی من کی
تقوی وعشق الہی میں ہی ہے پنہاں،خوبصورتی من کی
بیہودہ خیالوں کی ہرگزنہ دل میں افزائش کر
تو عشق حقيقي میں فنا ہونے کی خواہش کر
پھردیکھ کس جانب ہوگی رواں،خوبصورتی من کی
تقوی و عشق الہی میں ہی ہے پنہاں،خوبصورتی من کی
فانی چیزوں سےدھوکرہاتھ بھی،بالکل نہ روناچاہیے
مگر اپنے خالق کی محبت کو،ہرگز نہ کھونا چاہیے
یہ مل جاےء پھر تو ہے فاتح جہاں،خوبصورتی من کی
تقوی و عشق الہی میں ہی ہے پنہاں،خوبصورتی من کی
الہی صرف تیری رضاکی مجھے ضرورت ہے
کہ سکون قلب کی دکھتی بس یہی صورت ہے
نوشی میری یہی تو ہے ہاں،خوبصورتی من کی
تقوی وعشق الہی میں ہی ہے پنہاں،خوبصورتی من کی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






