عشق اور وفا کسی کے نہیں ھوتے۔۔۔
Poet: Tahir Kiani By: Tahir shabbir kiani, khamis mashyt k.s.a یہ عشق اور وفا، کسی کے نہیں ھوتے
جیسے بادل اور بادصبا، کسی کے نہیں ھوتے
کتنا ہی انس کیوں نہ ھو ان سے،آخر ڈبو ہی دیتے ہیں
سچ میں یہ کنارے اور یہ دریا،کسی کے نہیں ھوتے
جب چایے جیسے چاہے کوئی انھیں نوچ لے
اب اس درجہ بھی خواب ارزاں، کسی کے نہیں ھوتے
انہی پہ مچلتی ہیں کبھی دعا،کبھی سسکتی ہے بددعا
یہ لب بھی حق میں سدا، کسی کے نہیں ھوتے
خود ھی چنتا ہے انسان انھیں اپنے لیئے
ویسے تو یہ سزا و جزا، کسی کے نہیں ھوتے
دیر سے ھی سہی ھم بھی بلآخر یہ مان گئے
کہ خود غرض لوگ اپنے سوا،کسی کے نہیں ھوتے
اغراض و مقاصد میں بدلتے رہتے ہیں یہ رنگ و روپ طاہر
حقیقت میں یہ دنیا کے خدا ،کسی کے نہیں ھوتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






