عشق بھی تو ہے مرا تو ہی عبادت میری
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتو مرا پیار ہے اور تو ہی عبادت میری
عشق بھی تو ہے مرا تو ہی عبادت میری
یاد کرتا ہوں خیالوں میں تجھے چپکے سے
تیری رسوائی گوارا نہیں اے جان حیا
اپنے جذبات کو ہونٹوں میں دبا لیتا ہوں
چیختی رہتی ہے سینے میں مرے گرچہ صدا
تیری عزت مری محبوب ! ہے عزت میری
عشق بھی تو ہے مرا تو ہی عبادت میری
رات کے پچھلے پہر جب کوئی آواز سنوں
تیرے قدموں کی ہی آ ہٹ کا گماں ہوتا ہے
تیری سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتا ہوں
میری نس نس میں کوئی شعلہ جواں ہوتا ہے
پیار سے سینے لگاؤں ہے یہ حسرت میری
عشق بھی تو ہے مرا تو ہی عبادت میری
تیرے پاس آ کے بھی میں تجھ سے نہ کچھ کہہ پایا
کیسے جذبات دکھاؤں میں یہی سوچتا ہوں
ڈر ہے اظہار وفا سے نہ خفا ہو جائے
بس یہی سوچ کے ہونٹوں کو سیے رہتا ہوں
کتنی خاموش ہے یہ دیکھ تو الفت میری
عشق بھی تو ہے مرا تو ہی عبادت میری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






