عشق قاتل یا مسیحا کبھی سوچا ہی نہیں
Poet: Arib Hashmi By: Arib Hashmi, Kharianوہ تیغ و تیشہ و تیر و کمان چھوڑ گیا
تڑپتے جسم میں بل کھاتی جان چھوڑ گیا
خدایا ہم پہ یہ کیسا زوال آیا ہے
زمین روٹھ گئی آسمان چھوڑ گیا
وہ ایک اشک جو آنکھوں سے میری بہہ نکلا
وہ اپنے پیچھے کئی کاروان چھوڑ گیا
مگر وہ شخص جسے خون سے کیا سیراب
کڑکتی دھوپ میں بے سائبان چھوڑ گیا
بہت دنوں سے تصوّر میں وہ نہیں آیا
مرا گمان بھی اپنی اڑان چھوڑ گیا
یہ دکھ، یہ درد, یہ غم لے کے جانا بھول گیا
وہ اتنی جلد یہ دل کا مکان چھوڑ گیا
نجانے کون سی منزل کا وہ پکھیرو تھا
ہوا کے ہاتھ پہ اپنا نشان چھوڑ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






