عشق میں اب خون پانی کیجیے
Poet: انصاری By: انصاری, Gujratعشق میں اب خون پانی کیجیے
نذر وحشت یہ جوانی کیجیے
آپ کے ہاتھوں میں ہے سانسوں کی ڈور
جتنی چاہے کھینچا تانی کیجیے
التجا کر کے نہ شرمندہ کریں
حکمراں ہیں حکمرانی کیجیے
مل رہے ہیں ہم پرانے موڑ پر
آپ پھر باتیں پرانی کیجیے
میں بہت مشکل سے ملتا ہوں حضور
مل گیا ہوں میزبانی کیجیے
میرا تو ہے لب کشا ہونا گناہ
آپ ہی جادو بیانی کیجیے
ذکر کیجے اب عطاؔ کے شعر کا
ختم عامرؔ کی کہانی کیجیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






