عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا
Poet: Rose anmol By: ROSE Anmol, Sargodhaعشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا
عشق وہ برستا پانی ہے
جو بہتا تو انکھ سے ہے
مگرچیرتا دل کو ہے
عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا
عشق وہ عبادت ہے جو
بندے کو اپنے رب سے ملاتا ہے
گناہوں سےدور عاجزی سکھاتا ہے
عشق میں ڈوبے تو ہم نےجانا
عشق کبھی مرتا نہیں موت سے ڈرتا نہیں
انسان نےدیکھاہے مچھلی کو مچھلتے بغیر پانی کے
عشق اپنے ہی اندر انسان کو مچھلی بنادیتاہے
کیا خوب کہاہے کسی نے اے روز
عشق نہیں وہ طوفان جو
چھا کر ڈھل جاۓ
عشق ہے وہ طوفان جسکے بھور میں
ہر عاشیق خوشی سےدم توڑ جاۓ
عشق میں ڈوبے تو ہم نے جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






