عشق میں ہوا ہے ستم
Poet: Khalid Pervez By: Khalid Pervez, Pasrur, Saukin Windاپنے دیئے ہوئے غم کو غم سمجھ لینا
عشق میں ہوا ہے ستم سمجھ لینا
سکت نہیں آرزو کی سیوا کے لئے
اس لئے رکے گئے ہیں قدم سمجھ لینا
لبریز ہوتا ہے جب کسی آنکھ کا ظرف
ہوائیں ہو جاتی ہیں نم سمجھ لینا
اپنے پاس رکھ کر سانسوں کی مہک
دے دیا ہے اک جسم سمجھ لینا
طوفاں میں بھی جلتی ہے محبت کی شمع
ہو اگر دل میں ذوق سمجھ لینا
کٹ تو جائیں گے تیرے ہجر میں دن خالد
نشاں چھوڑ جائیں گے زخم سمجھ لینا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







