عشق نہیں ہے اتنا آساں
Poet: Khalid Kasi By: Khalid Kasi, Quettaعشق نہیں ہے اتنا آساں، دیکھنے میں یہ جو لگتا ہے
جو کرے بس وہی جانے، جس آگ میں ہر دم سلگتا ہے
ہوتی ہے روز و شب یونہی، مشق مرگ و زیست کی
صبح سمیٹے خود کو جو، شام کو روز بکھرتا ہے
پل پل میں ہنستا روتا ہے، پل پل میں مرتا جیتا ہے
پل پل میں کھل کے مرجھائے، پل پل میں ٹوٹ کے سمٹتا ہے
خود کو ڈھونڈے خود میں ہی، پھر بھاگ جائے خود سے ہی
بے رحم وقت کی سولی پر، جس وقت دیکھو لٹکتا ہے
راتوں کو جگائے بے چین کرے، یہ دل لگی ہے عشق نہیں
عشق تو آگ کا دریا ہے، جو کود پڑے بس جلتا ہے
صبح کیسی ہے شام کیسی، عشق کو خبر کیا ہے رات کیسی
بس عشق سے پوچھو معشوق کی خبر، روح میں اسکی بستا ہے
ہنستے ہیں جس پر اہل زمانہ، دیکھ لیں کبھی تو پھٹ پڑیں سب
وہ منظر جب کہ بے چین ہو کر ٹوٹ کے کوئی بکھرتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






