عشق نے حسن سے تن کے یہ کہا
Poet: UA By: UA, Lahoreتمہاری آنکھوں نے دیکھا ہے مَلال میرا
کبھی آیا ہے تمہارے دِل کو خیال میرا
برسوں بعد آ ئے ہو پوچھتے ہو کیسی ہوں
اپنے دِل سے پوچھو، ہے کیسا حال میرا
وہ جو پوچھ نہ پائے ہم، تم سے آج تلک
لبوں پر آن ٹھہرا ہے، وہی سوال میرا
ہجر کی سوغات دیکر درازیءِ عمر کی دعا
دیکھنا چاہتے ہیں، اب کون سا کمال میرا
گردشِ حالات نے تغیّر بھی تو لانا تھا
کیسے سنبھال رکھتی عمر جمال میرا
تم نے جِسے محبت کا عروج مانا ہے سدا
وہی ٹھہرا عمر بھر آخر زوال میرا
وہی ٹھہرا عمر بھر آخر زوال میرا
عشق نے حسن سے تن کے یہ کہا ہے
حسن پہ غالب رہا سدا دھمال میرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






