عشق وہ زنجیر جو باندھے خرد سے کتابِ نو
Poet: غلام عباس ساغر By: غلام عباس ساغر, Londonعشق ہے تسخیرِ جاں، سرگشتگی کا بابِ نو
دھوپ میں تسلیم کا سایہ، جنوں کا خوابِ نو
روح میں تحلیل جیسے کرب کا سازِ سکوں
جسم میں برپا کرے آشوب کا اک حجابِ نو
کون جانے، کون سمجھے دل کی وحشت کی گتھی
اک فسردہ شامِ غم، اور اشک کا محرابِ نو
عشق وہ یاقوت جس کے رنگ میں رنگا جہاں
عشق وہ زنجیر جو باندھے خرد سے کتابِ نو
ہر نفس مانندِ ساغر خم لیے گھائل ہوا
دل کے آنگن میں اتر آیا وفا کا ماہتابِ نو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






