عشق پر ہجر کا کیسا ہے گلستاں اک روز
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاعشق پر ہجر کا کیسا ہے گلستاں اک روز
مر مٹے پر نہ ملی وصل کی .ہجراں اک رو.ز
حسن کی ایک نظر حشر بپا کردے گی
جی اُٹھیں گے وہ سب گلِ خنداں اک روز
دیکھتی روز تماشا ہوں نیا میں بھی یہاں
میرا کچھ ساتھ تو دے دو نا یاراں اک روز
جس سے ملنے کو جتن لاکھ کیے تھے میں نے
مجھ سے راضی بھی نہیں اور میں نالاں اک روز
ساتھ مانگا ہے ترا، اور نہیں کچھ مطلوب
مدعا دیکھ مرا یہ مرے .یاراں اک روز
ختم ہونے کو نہیں آے ابھی میرے الم
چھیڑ بیٹھی ہوں مگر درد کا درماں اک روز
کیا مصیبت ہے، ہوا جب سے محبت کا اسیر
اب تو آزاد نہیں ہوں، پس زنداں اک روز
اُس کے اظہار سے پہلے کوئی امکان تو تھا
اب جو انکار کیا ہے تو وہ امکاں اک روز
خط ملا ہے پہ عبارت ہے شکستہ وشمہ
نام انکا ہے، اور اُس پر کوئی عنواں اک روز
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






