عشق کے دریا میں جو اتر گیا
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK عشق کے دریا میں جو اتر گیا
ڈوبا ڈوبا وہ سمجھو کہ مر گیا
دل کہاں سے لائوں اب سمیٹ کر
جو تیرے پیار میں ٹوٹ بکھر گیا
عہد تھا کوئی ساتھ نبھانے کا۔۔۔
آہ ! کیسے ظالم ! پھر تو مکر گیا ؟
تم کیا ملے تو یوں لگا جیسے۔۔۔
وقت تھم گیا جیسے لمحہ ٹہر گیا۔۔۔
کیا مصیبت ھے کہ تیرے ہوتے۔
دل غم تنہائی میں اپنا گہر گیا۔۔۔
آہ ! کوئی تو ہوتا چارہ غم اپنے۔۔۔
کہ غم کے مارے دل اپنا مر گیا۔
عشق میں جان کی امان نہیں کوئی۔۔۔
یاد ھے نا ! کیسےمنصور سولی چڑھ گیا۔؟
تیرے آنے کی امید میں اسد نامراد۔
انتظار کرتے کرتے کب کا مر گیا۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






