عشق کے رنگ
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas نگاہ ناز اٹھائو تو کوئی بات بنے
دل کو گرویدہ بنائو تو کوئی بات بنے
روز تکتی ہیں نگاہیں یار رستہ تیرا
کبھی تشریف تم لائو تو کوئی بات بنے
آتش عشق میں جل رہا ھے دل اپنا
لب شیرین سے بجھائو تو کوئی بات بنے
جام الفت یوں پینے کی کوئی حسرت ھے
اپنی نگاہوں سے پلائو تو کوئی بات بنے
ہم نے مانا کہ عشق کے رنگ ہیں ھزار
دل کو مجنون گر بنائو تو کوئی بات بنے
ہرطرف پیار کی بارش کا ہو رہا ھے نزول
ساتھ میں مل کر نہائو تو کوئی بات بنے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






