عشق کے لمحات
Poet: Saeed Akhter Rahi By: Saeed Akhter Rahi, karachiکتنے حسین لمحے تھے عشق کے لمحات میں
آگ جسموں میں لگی تھی موسم برسات میں
چپ چپ قریب آکر جسموں کو گدگدا کر
اس قدر مصروف تھے ہم بےخوف جذبات میں
بجتی ہے جب بھی میرے اس فون کی یہ گھنٹی
کیا کہوں کیا ہو جاتا ہے مجھے ان لمحات میں
ہاں تیرے فون کا ہی رہتا گماں ہے ہر دم
یہ ایک ہے امید ہے میرے اس حیات میں
آؤ تمہیں بتاؤں کہ بے چین کتنا رہتا ہوں
کیا ڈھونڈتا رہتا ہوں میں آدھی آدھی رات میں
کچھ اس قدر تھا شور کہ احساس یہ ہوا تھا
صرف میرے پیار کے ہیں چرچے کائنات میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






