عشق ھے
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas رنج و غم میں مسکرانا عشق ہے
یار کی گلیوں میں جانا عشق ہے
عشق مشک چھپائے کبھی چھپتا نہیں
تنہائی میں آنسو بہانہ عشق ہے
دل لگی کے یوں تو رنگ ہیں ھزار
ہاں مگر سب سے پرانا عشق ہے
عشق کے آگے ہیچ ہے عالم کل تمام
اس جہان میں جز شاہانہ عشق ہے
دیر سے آنا سہی مگر آیا تو دل
یوں بھی دل کا آخر ٹھکانہ عشق ہے
بسکہ ہے دشوار کسی کے دل میں جاء
ہاں مگر بس ایک بہانہ عشق ہے
مجنون کو لیلےآ سے جو تھا کبھی
عشق وہی میری جان جانا عشق ہے
کیوں کرے انکار سولی چڑھنے سے؟
کہ منصور کا مزاج عاشقانہ عشق ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






