عشق ہی کیا ہے کوئی عیب نہیں
Poet: رضا By: Ali Raza, Chichawatniعشق ہی کیا ہے کوئی عیب نہیں
اب ڈرتے ہیں ان سے خیر نہیں
اک بارتودیکھا ہو گا خط ہمارا
یوں ہی وہ لگ رہۓ خفا نہیں
کرتے ہیں محبت فقط ان سے
کہیں اسی بات سے انجان نہیں
جواب لکہنے کا سوچا تو ہو گا
کہیں رقیبوںسے پریشان نہیں
جان گئے وہ کہ چاھتے ہیں انہیں
کہیں اوروں کی طرح خواب نہیں
بچ رھۓ ہیں یا بچا رہۓ ہیں
کہیں محبت سے بچانے کی چال نہیں
رضا ہوا تمہارا اب غیر نہیں
ارۓ اپنا ہے اپنا کوئ غیر نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






