عشق
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiڈر رہے ہو عشق کی تشویر سے
عشق میں تو سیکھ لو کچھ ہیر سے
رہتا ہے ناراض مجھ سے پھر کیوں
بات کرتا ہے مری تصویر سے
ذکر اس کا تو کہیں آیا نہیں
ڈر رہا ہے کیوں مری تحریر سے
خواب آنکھوں میں سجا کر تم مری
کیوں ڈراتے ہو مجھے تعبیر سے
روٹھنا اچھا نہیں ہے اس طرح
باندھ لیجے پیار کی زنجیر سے
یوں ہی بس گمنام رہنے دو مجھے
خوف آتا ہے مجھے تشہیر سے
ڈر سا لگتا ہے مجھے انساں سے اب
کیا بچائیں خود کو ہم نخچیر سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






