علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ
Poet: وسیم احمد مغل By: وسیم احمد مغل, Lahoreہر سوچ سے ہر فکر سے بیزار تھااقبال
اور دینِ محمد کا پرستار تھا اقبال
اے دوستو اقبال تھا کچھ اور طرح کا
مسٹر بھی تھا اور دیں کا طرف دار تھا اقبال
ہر وقت نظر رہتی تھی حالات پہ اس کی
اس قوم کا اک دیدہ ءِ بیدار تھا اقبال
دشمن تھا وہ ہر دشمنِ دیں کا سنو لوگو
بس ایک محمدﷺ کا وفا دار تھا اقبال
خواہش تھی محمدﷺ کی قدم بوسی کی دل میں
یوں عشق ِمحمدﷺ میں گرفتار تھا اقبال
ملت کی زبوں حالی پہ روتا تھا وہ اکثر
ملت کے ہر اک غم کا بھی غم خوار تھا اقبال
یک جہتی ءِ ملت کا جو تھا خواب سہانا
اس خواب کا سب سے بڑا کردار تھا اقبال
شاہیں کی خودی پر بھی بہت ناز تھا اس کو
شاہیں کی طرح خود بھی تو خود دار تھا اقبال
دن رات شغف رہتا تھا قرآن سے اس کو
قرآن کی تعلیم سے سرشار تھا اقبال
روشن تھا ترے دل میں دیا عشقِ نبی کا
اس واسطے تُو مطلعءِ انوار تھااقبال
اس دور کا ہر فلسفہ یوں کاٹا تھا اُس نے
گویا کے چمکتی ہوئی تلوا ر تھا اقبال
اک خواب جو دیکھا تھا حسیں ملک کا اس نے
اس ملک کی بنیاد کا معمار تھا اقبال
اسلام کے جو ہند میں تھے قافلہ سالار
سب قافلہ سالاروں کا سالار تھا اقبال
کیا خوب کہا تو نے وسیم ایک یہ مصرع
اسلام کی شمشیرِ جگر دار تھا اقبال
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






