عمر بھر وہ شخص جو مجھ سے جفا کرتا رہا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiعمر بھر وہ شخص جو مجھ سے جفا کرتا رہا
سوچتا ہوں کس سے آخر وہ وفا کرتا رہا
کتنا پاگل تھا میں دعوت دے رہا تھا موت کو
رُوح اپنی جسم سے جب میں رِہا کرتا رہا
رات میں نے دوستی کی اک عجب دیکھی مثال
فاختہ پیچھے چلی جگنو ضیا کرتا رہا
میں تو اپنی جھونپڑی میں سو گیا تھا چین سے
تیز آندھی میں دفاع اپنا دِیا کرتا کرتا رہا
پھول بیچارے وہی کُملا گۓ کچھ دیر بعد
ترس کھا کر جن کو کانٹوں سے جُدا کرتا رہا
جب بھی دیتا چوٹ پانی بھی پلاتا تھا مجھے
ہاۓ ہاۓ میرا دشمن کیا بھلا کرتا رہا
بےوجہ کل تک میں اپنے دُشمنوں سے تھا خفا
کام تو اچھے برے سارے خُدا کرتا رہا
آج میری ہی دعاؤں سے ہوا وہ کامیاب
عمر بھر میرے لیۓ جو بدعا کرتا رہا
وہ مری دستار میں کانٹے چبھو کر چل دیا
جس کے حصے میں, مَیں ہیرے بہا کرتا رہا
میری قسمت میں کوئی بھی باوفا ساتھی نہیں
جو ملا مجھ کو وہی مجھ سے دغا کرتا رہا
وہ بھی میرے دُشمنوں کے ساتھ آخر ہو لیا
زندگی بھر جس کی میں حاجت روا کرتا رہا
جِس کے عیبوں کو میں کُھلنے سے بچاتا رہ گیا
وہ بھرے بازار میں میرا گِلا کرتا رہا
میرے ہی دل میں چھپا بیٹھا تھا وہ چپ چاپ سا
میں عبادت گاہوں میں جس کا پتا کرتا رہا
عمر بھر مدمقابل یوں رہے میں اور خُدا
میں خطا کرتا رہا ہوں وہ عطا کرتا رہا
تیز طوفاں میں پھنسی کشتی بچانے کےلیے
کوششیں ناکام کتنی ناخدا کرتا رہا
ٹوٹ کر رویا ہے کیوں وہ آج میری قبر پر
عمر بھر جو میرے مرنے کی دعا کرتا رہا
میں یُونہی ثابت قدم رہتا تھا ہر میدان میں
دُور مجھ سے مُشکلیں مُشکل کُشا کرتا رہا
میرے دُشمن بھی یہی کہتے پھریں گے میرے بعد
کیا غضب کی شاعری اک دل جلا کرتا ہے
میرے فن نے مجھ کو زندہ رکھا میرے بعد بھی
تھا وہ مخلص نام جو اونچا مرا کرتا رہا
سنگدل وہ مجھ سے ملنے آج تک آیا نہیں
جس کی خاطر میں نمازیں بھی قضا کرتا رہا
اپنی اپنی ضد پہ باقر دونوں ہی قائم رہے
میں وفا کرتا رہا ہوں وہ جفا کرتا رہا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






