عِشق محنت، صِلہ محبّت ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaعِشق محنت، صِلہ محبّت ہے
مان، شِکوہ، گِلہ محبت ہے
پُوچھتے ہو مِرا قبیلہ کیا
طائفہ، سِلسِلہ محبّت ہے
مئے کے آنکھوں سے جام بھر بھر کر
ساقیا تُو پِلا محبّت ہے
آدمیت کا اِحترام لیئے
جو بھی، جب بھی مِلا، محبّت ہے
اُس کی آنکھوں میں اِک پیام سا تھا
پُھول دل میں کِھلا محبّت ہے
درس دیتا تھا جو محبّت کا
آدمی خُود بِلا محبّت ہے
تُو تو ہر شئے خرِید سکتا ہے
دام لایا ہے؟ لا محبّت ہے؟
مُجھ کو حِکمت سے رام کرنے کو
تُو نہیں دُم ہِلا محبّت ہے
شعر حسرتؔ حسِیں نہیں میرے
صِرف اِن میں جِلا محبّت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






