عہدِ نو کے فیشنوں نے سب کے یوں بدلے ہیں ڈھنگ
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiعہدِ نو کے فیشنوں نے سب کے یوں بدلے ہیں ڈھنگ
دیکھ کر اُن کی ادائیں، عقل رہ جاتی ہے دنگ
نِت نئے انداز میں یوں محو ہیں پیر و جواں
جس طرح کہ ڈولتی ہے، ڈور سے کٹی پتنگ
گھیر میں شلوار کے کوئی تو لائے پورا تھان
آدھ گز کپڑے میں کوئی سُوٹ کو کر ڈالے تنگ
کسی کے اِک سُوٹ سے، اِک خانداں ڈھانپے سِتر
جسم کے اعضاء کسی کے باہمی مصروفِ جنگ
ہائے عُنقاء ہوگئیں حسینوں کی رِدائیں اب
جن کی اِک ہلکی جھلک سے دل میں بجتے جلترنگ
وہ حیاء جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نُور
لے اُڑی اُس نِکہتِ گُل کو یہ تہذیبِ فرنگ
وہ تنّوع جو کہ جّدت کو بناتا تھا حسیں
اندھا دُھند تقلیدِ مغرب سے لگا بیٹھا ہے زنگ
کوئی پھٹی جینز کو سمجھا ہے ہستی کا عروج
خواہشِ عُریاں نے ہے فیشن کا پایا عُذرِ لنگ
محو ہوتا جارہا ہے دستِ حنائی کا ذوق
مغربی یلغار سے پھیکا پڑا، مشرق کا رنگ
میں مُخالف تو نہیں جدّت پسندی کا مگر
کھا نہ جائے مشرقی اقدار کو پَچھَمی پُلنگ
مختصر اتنا کہ سرور، احتمال یہ بھی رہے
تُند صحرا کے لئے ہوتا نہیں ہرگز کَلَنگ
(کَلنگ = ہنس)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






