عہد حاضر میں غزل ہے
Poet: Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi By: Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi, New Delhiآج اردو شاعری کوہے یہ حاصل امتیاز
عہدحاضرمیں غزل ہے مظہرسوزوگداز
اس کے گلہائے مضامیں ہیں نہایت دلفریب
منعکس ہوتے ہیں جن سے عشق کے رازونیاز
میروغالب،ذوق و مومن، فیض اوراحمدفراز
تھے یہ اردو شاعری کی شخصیت تاریخ ساز
سودا،حالی،داغ،ناسخ،فانی،حسرت ،میرانیس
سرورعالم رازسرور،کا سخن ہے دلنواز
تھی غزل پہلے ۔’’حدیث دلبری‘‘لیکن یہ آج
زندگی کے ساز پر ہے عہدنو میں نغمہ ساز
عہدنو میں توڑ کر اقبال نے فکری جمود
فکر و فن کو کردیا سووزیاں سے بے نیاز
خودشناسی کا تصور وقت کی آواز تھا
منکشف ہوتے ہیں انکی فکر سے فطرت کے راز
ترجمان زندگی بن کر وہ ابھرے اس طرح
سب پہ ظاہر کردیا کیا ہے حقیقت کیا مجاز
کر رہا ہوں وقت کی آواز پر لبیک میں
میری غزلوں سے ہے ظاہر زندگی کا سوزوساز
مجھ پہ ہے رحمت الٰہی برق کا فیضان یہ
کررہا ہوں شرح حال دل بصد عجز و نیاز
ہے کلام اقبال کا برقی سرود سرمدی
رہتی دنیا تک کریں گے لوگ جس کے فن پہ ناز
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






