عید کا دن ہو اور تو نہ ہو۔۔۔۔۔۔ کیسے ممکن ہے؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillعید کا دن ہو اور تو نہ ہو
گویا کہ پھول میں خوشبو نہ ہو
عشق تطہیر سے عبارت ہے
کیا عبادت اگر وضو نہ ہو
کاش وہ وقت نہ آئے مجھ پر
دل میں جب تیری آرزو نہ ہو
مندمل اک تیرے آ جانے سے
زخم جو وقت سے رفو نہ ہو
ہر وہ لمحہ میرا گناہوں میں
جبکہ تو میرے روبرو نہ ہو
آنکھ سے آنکھ ملے سوچ ذرا
اور پھر کوئی گفتگو نہ ہو
لفظ وہ سب فضول کہ جن سے
زندگی کی کہیں نمو نہ ہو
چاند لمحوں کی بھی نہیں وقعت
چاند چہرہ جو کوبکو نہ ہو
زندگی ہے تو یہ بھی لازم ہے
کیا مزہ گر کوئی عدو نہ ہو
دل تیری جس ادا پہ دھڑک اٹھا
دیکھ لینا وہ فقط خو نہ ہو
غور سے دیکھ ذرا ماتھے پر
کوئی مہتاب ہو بہو نہ ہو
سرخیاں بانٹتے لب و رخسار
اتنی بھی جان سرخرو نہ ہو
کیسے ممکن ہے چاند آئے نظر
اور رومان چار سو نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






