عید
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratآؤ گلے مل کر عید
ہر شکوہ مٹا دیں
کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ رحمت کے
پر مسرت لمحے
پھر میسر آئیں کے نہیں
نجانے کہاں ہو جائے زندگی کی شام
نجانے کیا ہو کسی کا انجام
نجانے کون ہو گا کس کے نام
آؤ ہاتھ ملا کر دل سے عید کی خوشیاں بانٹیں
ہر ملال، ہر دکھ مٹادیں
کریں آج اک دوسرے کی چاہت
دیں آج اک دوسرے کو محبت
کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دلگیر پل میسرآئیں کے نہیں
آؤ گلے مل کر عید
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






