عید
Poet: Asad Saleem By: Asad Saleem, Gujranwalaعید آئی ہے خوشیاں لے کر
تم بھی آتے تو اچھا ہوتا
بکھری ہیں چاتیں چار جانب
میری ہنسی کو تم جو لاتے تو اچھا ہوتا
بکھری زلفیں----ویراں کلائیاں
جو تم سجاتے تو اچھا ہوتا
مھندی بھی اب تک پڑی ہوئی ہے
تم ہی لگاتے تو اچھا ہوتا
سنو اے قاصد گر جا رہے ہو
میرے نین لے جاتے تو اچھا ہوتا
لوگ کہتے ہیں عید کا چاند نکلا
نظر تم جو آتے تو اچھا ہوتا
عید آئی ہے خوشیاں لے کر
تم بھی آتے تو اچھا ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






