غرارہ
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknowعیید کے دن جو تمھیں پہنے غرارہ دیکھا
حسن کے روپ میں بس ایک شرارہ دیکھا
رشک مہتاب تھا اک ایسا ستارہ د یکھا
جان من سچ ہے تمھیں چاند سے پیارا دیکھا
اک حقیقت تھی جسے خواب سے پیارا دیکھا
عید کے دن جو تمھیں پہنے غرا رہ د یکھا
تھیں حسیں پہلے بھی پر آج غضب ڈھاتی ہو
تم غرارے میں تو کچھ اور نکھر جا تی ہو
لاکھ سادہ ر ہو پر اور سنو ر جاتی ہو
صرف قاتل نہیں کچھ اور نظر آتی ہو
مر گیا بھول سے جس نے یہ نظا رہ د یکھا
عید کے دن جو تمھیں پہنے غرارہ دیکھا
دل میں آیا تھا تمھیں بانہوں میں رقصاں کر دوں
پیار کی ایک مہر ہو نٹو ں پہ چسپاں کر دوں
چہرہ گلنار کروں حسن درخشاں کر د و ں
ہائے الله کہو اتنا پر یشا ں کر دوں
پر ہوا چپ جو نگا ہو ں کا اشارہ دیکھا
عید کے دن جو تمھیں پہنے غرارہ دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






