غزل کہتی ہوئی ۔۔۔۔۔۔آنکھیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillہیں تخیل کی ہمسفر آنکھیں
غزل کہتی ہوئی مدھر آنکھیں
دے کے احاساس کو حسیں منظر
لے گئی ہیں تمام ڈر آنکھیں
ایک نکتہ ہے روبرو لیکن
دیکھتی ہیں ادھر ادھر آنکھیں
صرف آہٹ ہی سنی تھی دل نے
دیکھ اب بھی ہیں بام پر آنکھیں
ہے لطافت سی لطافت توبہ
روح میں سے گئیں گزر آنکھیں
ایک جنبش سی ہوئی مژگاں کی
کر گئیں وقت کا سفر آنکھیں
مجھ پہ کب کی ہے دسترس اسکی
جانے کس کی ہیں منتظر آنکھیں
آس سے پھول سے کھلاتی ہوئی
تیرگی میں نئی سحر آنکھیں
عشق کو ایک بار سوچا تھا
رہی سجدے میں عمر بھر آنکھیں
دھڑکنیں پوچھ کر چلیں ان سے
ہو گیئں اتنی معتبر آنکھیں
روبرو آئینے کے مت جانا
عکس پر جائیں گی ٹھہر آنکھیں
پھر زمانے میں بچے گا ہی کیا؟
پھیر لی آپ نے اگر آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






