غزل
Poet: By: AB shahzad, Mailsiپورے عہدو پیمان ہو جاتے
میرے تم میز بان ہو جا تے
دلِ شاداں ہو کے ملتے گر تم
تیری جانب دھیان ہو جاتے
تیری گر ملتی محبت مجھ کو
ہم بھی پھر تو جوان ہو جاتے
سبک سر کرتے نہ گر ہم کسی سے
اونچے اپنے شان ہو جا تے
اپنی دولت نہ گر لٹاتے ہم
پھر پکے تو مکان ہو جا تے
ادھر ادھر نہ بھٹکتا پھر تا
کاش میرے پلان ہو جا تے
بے مہر بن گیا میں اندوہ گیں
پھر ہمارے بھی شان ہو جاتے
پارہ دل کر گئی تری نفرت
ورنہ تم جانِ جان ہو جا تے
میرے اپنے نہ گر یہ ہو تے وہاں
پھر تو میرے چلان ہو جا تے
گر زمیں میری پہ قبضہ نہ ہوتا
ہم بھی شہزاد خان ہو جا تے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






