غزل
Poet: شمشاد شاد By: [email protected], Nagpur India(1)
سازش غم و آلام کی ناکام ہو کچھ تو
وہ کام کرو جس سے خوشی عام ہو کچھ تو
نفرت کی بہت ہو چکی تشہیر جہاں میں
اب رسمِ محبت بھی یہاں عام ہو کچھ تو
الزام لگاؤ کہ سیاہی ملو منہ پر
کچھ ایسا کرو جس سے مرا نام ہو کچھ تو
الفت کی نظر بھی تو ذرا ڈال دیا کر
اس دل کو ترے قرب سے آرام ہو کچھ تو
زندانِ محبت میں اسے قید تو کر لوں
اس دشمنِ جاں پر مگر الزام ہو کچھ تو
محظوظ کروں تم کو مری فکر سے لیکن
وجدان میں اشعار کا الہام ہو کچھ تو
اک موڑ اسے دے کے یہیں چھوڑ دوں لیکن
اے شاؔد اس افسانے کا انجام ہو کچھ تو
شمشاد شاؔد
(٢)
ترے ہاتھوں سے مل جائے اسے دریا سمجھتے ہیں
سمندر کو بھی ورنہ ہم تو اک قطرہ سمجھتے ہیں
جو شئے اپنی نہیں اسکی کبھی حسرت نہ کی ہم نے
جو اپنے پاس ہے اس کو ہی بس اپنا سمجھتے ہیں
میاں تم چھوٹی چھوٹی باتیں لے کر بیٹھ جاتے ہو
جہاں والے کہاں اچھے کو بھی اچھا سمجھتے ہیں
بڑی بیباکی سے وہ شعر رکھ لیتے ہیں اوروں کا
یہاں مفہوم اٹھانے کو بھی ہم سَرقہ سمجھتے ہیں
خود اپنے پاؤں پر کوئی کلہاڑی مارتا ہے کیا
جناب ایسوں کو ہی تو عقل کا اندھا سمجھتے ہیں
بڑے حساس ہوتے ہیں یہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی
یہ کچھ سمجھیں نہ سمجھیں ہاں مگر غصہ سمجھتے ہیں
کوئی مجھ سا نہ ہوگا شاؔد اس دنیا میں بدقسمت
میں سیدھا بھی کہوں تو لوگ اسے الٹا سمجھتے ہیں
شمشاد شاؔد
(٣)
جان ہی نہ پائے ہم کب نکل گئے اک دن
اپنے اپنے رستے پر سب نکل گئے اک دن
تونے ساتھ کیا چھوڑا یوں لگا مجھے ہمدم
ہاتھ سے مرے روز و شب نکل گئے اک دن
جن پرندوں کو اڑنا میں نے خود سکھایا تھا
ایک ایک کر کے وہ سب نکل گئے اک دن
ہر کوئی ہوا سیراب، آپ ہی نہ جانے کیوں
راہِ عشق سے تشنہ لب نکل گئے اک دن
سادگی تھی جینے میں، مشک تھی پسینے میں
حیف جینے کے کیا کیا ڈھب نکل گئے اک دن
زندگی بتانی تھی شاؔد اس کے قدموں میں
لی نہ جو خبر اس نے تب نکل گئے اک دن
شمشاد شاؔد
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






