غم تجھے چھو کے نہ جائے
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabadسدا خوشیوں میں پلے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
یونہی مسکراتا رہے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
ہزاروں بہاریں آ کے تیری زندگی میں بسیرا کر لیں
یونہی خوشبوئوں میں پلے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
ہر رہ گزر پہ تیری چاند تارے اتر آئیں
نہ اندھیروں سے کبھی ڈرے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
کوئی آزمائش زندگی کی رستہ نہ تیرے گھر کا دیکھے
کوئی رنج نہ کبھی دیکھے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
مانگے جو بھی خدا سے تو ہمیشہ وہ مل جائے تجھے
سدا برکتوں میں جئے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
کوئی حسرت و ناامیدی کوئی خوف اور کوئی ڈر
کبھی زندگی نہ پائے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
تیرا دل یونہی محبت کی سرشاریوں میں ڈوبا رہے
نہ ہجر کا نام کبھی سنے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
درد بڑی آزمائش ہے ایاز دعا ہے تجھے میری
کوئی درد نہ کبھی سہے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






