غم تجھے چھو کے نہ جائے
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabadسدا خوشیوں میں پلے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
یونہی مسکراتا رہے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
ہزاروں بہاریں آ کے تیری زندگی میں بسیرا کر لیں
یونہی خوشبوئوں میں پلے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
ہر رہ گزر پہ تیری چاند تارے اتر آئیں
نہ اندھیروں سے کبھی ڈرے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
کوئی آزمائش زندگی کی رستہ نہ تیرے گھر کا دیکھے
کوئی رنج نہ کبھی دیکھے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
مانگے جو بھی خدا سے تو ہمیشہ وہ مل جائے تجھے
سدا برکتوں میں جئے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
کوئی حسرت و ناامیدی کوئی خوف اور کوئی ڈر
کبھی زندگی نہ پائے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
تیرا دل یونہی محبت کی سرشاریوں میں ڈوبا رہے
نہ ہجر کا نام کبھی سنے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
درد بڑی آزمائش ہے ایاز دعا ہے تجھے میری
کوئی درد نہ کبھی سہے تو غم تجھے چھو کے نہ جائے
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






