غم حیات سی کچھ پل چرا نہیں سکتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاغم حیات سی کچھ پل چرا نہیں سکتے
ارادتاً بھی کبھی مسکرا نہیں سکتے
وہ سج سنور کے ابھی مسکرا کے دیکھیں گے
قسم یہ کھائی ہے بجلی گرا نہیں سکتے
ابھی جو لگتے ہیں مصروف دنیا داری میں
ذرا ہی دیر میں نظریں بچا نہیں سکتے
ملے گا کوئی چاہنے والا -جاننے کے لئے
وہ اپنے ہاتھ میں مہندی لگا نہیں سکتے
نہ روک پائے گا دیدار یار سے کوئی
زمانے بھر کو حسن ہم دکھا نہیں سکتے
سنا ہے تیرے بھی دل میں امنگ جاگی ہے
خبر ہے ساری تو چاہے نہ بتانہیں سکتے
سخن کا شہر رفیقوں کی یہ حسیں محفل
رہے گا یاد یہ وشمہ بھلا نہیں سکتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






