غم فراق کا نقصان
Poet: حبیب اللہ گانچھوی By: habib ganchvi, Islamabadسورج وہی راستے وہی طوفان وہی
رات وہی وحشت وہی انسان وہی
حالات سے لڑتے ہوئے ہر نئے موڑ پر
باتیں وہی منزل وہی داستان وہی
خیالات کے الجھے ہوئے گنجلوں میں
ٹوٹتے ہوئے سہمے ہوئے امکان وہی
ہر نئی شام سورج کے ڈھلتے رستے
لہو رنگ افق پہ بکھرے ہوئے ارمان وہی
سفر موت ہے جاری رہے گا موت تک
لیکن گزرتے لمحوں میں وصل کا امکان وہی
خزاں رت کے اداس لمحوں میں
غم فراق کا نقصان وہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






