غم کتنے میری زندگی میں رہے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiغم کتنے میری زندگی میں رہے
پھر بھی شامل تیری ہر خوشی میں رہے
تیری صورت میں جانے کیا ہے رکھا
مر کے بھی ہم تیری عاشقی میں رہے
پاس اترنے کو تھے بہت سمندر میرے
جانے کیوں ہم تیری تشنگی میں رہے
کہیں آدمی کا دشمن بھی ہے آدمی
کہیں جان آدمی کی آدمی میں رہے
مجھ سے جتنی بھی کی تو نے دشمنی
دل کے رشتے مگر دوستی میں رہے
جب سے تیرے ملن کی امیدیں لگیں
پھر مزے نہ کسی مئے کشی میں رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






