غم کی سیاہ رات نے گُمنام کر دیا
Poet: Zaigham jaffery [email protected] By: zaigham jaffery, Daskaغم کی سیاہ رات نے گُمنام کر دیا
قدرت کے واقعات نے گُمنام کر دیا
اس دل کی آرزو کو سہارا نہیں ملا
ہم کو ہماری ذات نے گُمنام کر دیا
اس دامنِ حیات میں جو بھی موجود تھا
بس جادہ حیات گُمنام کر دیا
ہر صاحب نظر کی بصیرت کو بھا گئے
چھوٹی سے ایک بات نے گُمنام کر دیا
کچھ اس ادا سے چھلکا ہے یہ جام زندگی
تشہیر سے حالات نے گُمنام کر دیا
تحفے میںچاند کیسے انہیں پیش میں کروں
ایسے تصورات نے گُمنام کر دیا
ضیغم کا نام شعر و سخن سے بھی دیکھئے
بحر و تخیلات نے گُمنام کر دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






