غم کی ڈھلتی ہے کبھی رات تو دکھ ہوتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاغم کی ڈھلتی ہے کبھی رات تو دکھ ہوتا ہے
مری آنکھوں سے ہو برسات تو دکھ ہوتا ہے
مجھ کو یہ جیت کا عالم تو گوارہ ہی نہیں
اس کو ہو جائے کبھی مات تو دکھ ہوتا ہے
میرا ہرجائی وفاؤں کا خزانہ لے کر
پھر بھی کرتا ہے شکایات تو دکھ ہوتا ہے
پہلے کر کے وہ مرے ساتھ کوئی عہد وفا
اس کا پکڑے جو کبھی ہاتھ تو دکھ ہوتا ہے
وہ مری آنکھ کا تارہ ہے تو ٹھہرے مجھ میں
وہ بچھڑ جائے کسی رات تو دکھ ہوتا ہے
میرا دشمن وہ مرے ساتھ جفائیں کرکے
لے جو ہاتھوں میں ترا ہاتھ تو دکھ ہوتا ہے
ٹوٹے حسرت کا منارہ تو کوئی فکر نہیں
وشمہ ٹوٹے جو کبھی ذات تو دکھ ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






