غم

Poet: AHMED SIDDIQUI By: HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI, GLASGOW UK

غم نہ کھا کہ یہ آدمی کو کھاتا ہے
منزل دور ہے اور دل اڈا جاتا ہے

اعتبار نہ سبھی پہ کہ پچھائے گا تو
یہاں ہر کوئ کہاں وعدے اپنے نبھاتا ہے

ہے سرائے یہ ہر کوئ آتا جاتا ہے
ہے آج کون یہاں اور کل کون آتا ہے

زمانے بھر کی خوشیاں دیدے پل میں کوئ
آکے زندگی میں کوئ عمر بھر رلاتا ہے

وہ تو چھہڑ گئے تمہیں اور دنیاں کو
رہا اب کوئ نہیںنخرے جو ترے اٹھاتا ہے

گڑر جکا میں زندگی کے نشیب و فراز سے
اب کوئ کیوں مجھے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے

اب تو بس یاد کر اس ذات پاک کو احمد
غم اگر دیتا ہے تو خوشیاں وہی دکھاتا ہے

Rate it:
Views: 663
29 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL