غم
Poet: AHMED SIDDIQUI By: HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI, GLASGOW UKغم نہ کھا کہ یہ آدمی کو کھاتا ہے
منزل دور ہے اور دل اڈا جاتا ہے
اعتبار نہ سبھی پہ کہ پچھائے گا تو
یہاں ہر کوئ کہاں وعدے اپنے نبھاتا ہے
ہے سرائے یہ ہر کوئ آتا جاتا ہے
ہے آج کون یہاں اور کل کون آتا ہے
زمانے بھر کی خوشیاں دیدے پل میں کوئ
آکے زندگی میں کوئ عمر بھر رلاتا ہے
وہ تو چھہڑ گئے تمہیں اور دنیاں کو
رہا اب کوئ نہیںنخرے جو ترے اٹھاتا ہے
گڑر جکا میں زندگی کے نشیب و فراز سے
اب کوئ کیوں مجھے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے
اب تو بس یاد کر اس ذات پاک کو احمد
غم اگر دیتا ہے تو خوشیاں وہی دکھاتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






