غُبار وقت
Poet: Pervaiz Altaf Kiyani By: Ghualm Mujtaba Kiyani, Lahoreدل لگا کر کسی بیگانے سے
ہو گئے دُور وہ دیوانے سے
اجنبی جن کو لگا محفل میں
لوگ وہ بھی تو تھے انجانے میں
دیکھئے آکے چمن میں پل بھر
کھلتے ہیں پھول تیرے آنے سے
کیا ہے اس دل کا بہل جائے گا
تیرے ہنسنے ہنسانے سے
دوستوں سے میں یہی کہتا ہوں
دوستی بڑھتی ہے بڑھانے سے
گزرا لمحہ تو نہیں ،آ نہ سکوں
پاس تیرے، تیرے بلوانے سے
بِنا تیرے میں پگھل جاؤں گی
شمع یہ کہتی تھی پروانے سے
دکھ ہے بھر آج ملایا اس نے
ہاتھ پہنے ہوئے دستانے سے
پاس جب آیا میرے جانِ بہار
ایک خوشبو اٹھی کاشانے سے
ہے خبر کس لیے ہر بار مجھے
تھی مشکل خواب کے بتلانے سے
کوئی اور بھی ہے پس منظر میں؟
کون چھپ سکتا ہے زمانے سے
وہ جو نکلے گا کہاں جائے گا
اپنی اس زیست کے افسانے سے
اک خوشی تو ہے مجھے بھی پرویز
وہ بہل جاتا ہے بہلانے سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






