فرض کرو اگر ہم جدا ہوگے تو؟
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaفرض کرو اگر ہم جدا ہوگے تو؟
تُم کیا کرو گی؟
تُم کیسے رہو گی؟
مجھ سے تو کچھ بھی نہ ہو گا
نہ جی پاؤنگا
نہ مر پاؤنگا
نہ ہنس پاؤنگا
نہ رو پاؤنگا
مشکل لگے گی زندگی
جینا عذاب لگے گا
بیمار آنکھوں کا زندگی
ڈراؤنا خواب لگے گا
صرف افسردگی ہو گی
صرف غم ہو گا
ترے بعد آنکھوں میں
صرف نم ہو گا
میں بکھر جاؤنگا
تُو بچھڑ جائیگی
فرض کرو اگر ہم جدا ہوگے تو؟
تُم کیا کرو گی؟
تُم کیسے رہو گی؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






