فرمائش
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaiem, karachiایک پیالے میں چاندنی دے دو
لَو ہتھیلی پہ دیپ کی دے دو
لادو بس چند سانس بھر خوشبو
لے کے چُٹکی میں دھوپ ہی دے دو
ایک جھونکا، ہوا کا اک جھونکا
ڈور چھوٹی سی سانس کی دے دو
لادو بادل کا توڑ کر ٹکڑا
مجھ کو برسات تھوڑی سی دے دو
کچھ دھنک باندھ لاؤ انگلی میں
رکھ کے لمحے میں کچھ ہنسی دے دو
چُلو بھر چین اور سکون کے پَل
ساعت اک نیند سے بھری دے دو
دیکھو! اتنا سا لادوگیت کوئی
دیکھو! اتنی سی راگنی دے دو
اس نے اک روز یہ کہا مجھ سے
”مجھ کو تھوڑی سی زندگی دے دو“
اس کے پھیلے رہے سوالی ہاتھ
اور میں مَل رہا ہوں خالی ہاتھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






