فرمایش
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujaratلکھ کے دو میرے حالات پہ غزل آج کسسی نے فرمائش کی ہے
پتا نہیں فرمایش کی ہے یا میر ے ہنر کی آزمائش کی ہے
ہے وہ بھی میری طرح کچھ دربدر عشق کا مارا ہوا دوست
گلے نہ ڈال لینا عشق کا طوق بس اتنی سی اُسے ہدایت کی ہے
بڑی کرتے تھےمحبت اک دوسرے سے مجھے ہر بات بتا تا تھا
بکھرگےاک پل میں وہ نظرلگ گئی یا عشق نے آزمائش لی ہے
آیاں ہے بات کبھی عشق کےشہر میں دوریاں بھی چَکرلگاتی ہیں
بڑے بڑےشہنشاہ ڈوب مرےجنہوں نےدوریوں کی آفزائش کی ہے
آےمیرےنَگراُسےگلےلگا لوں گا جبکہ غلطی بھی اُسی کی تھی
ہےسچاعشق اُسے بادشاہ ہو کردل میں اتنی گنجائش دیکھی ہے
کبھی حالات سناتے ہیںاک دوسرےکو نم ہوجاتی ہیں میری آنکھیں
مجھےبھی تھی محبت نفیس شحص سےنکہ آنسوں نےنمائش کی ہے
لکھ کہ نہیں دی غزل کسی کو ہمیں اپنے حالات سے فرصت نہیں
دل نے کہا لکھو مجسف غزل بڑی آس سے کسی نے فرمائش کی ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






