فسانہ
Poet: Asad By: Asad, mpk میں کہاں تک لکھوں تیرے درد کے فسانے کو
دل میں جاء باقی نہیں ان لفطوں کے بٹھانے کو
تیرے عشق مین شدت غم وجد سا طاری ھوا
دل یار اپنا یوں چاہا کہ آگ لگا دین زمانے کو
جب تو نہیں آیا ادھر تو غم سارے بپھر گئے
ایک نہ سنی دل نے بھی کہتے نالا کسے سنانے کو
دید آخر مانہ سہی آ قریب اپنے بیٹھ جا
تو چھوڑ فکر زمانے کی آ بیٹھ میرے سرہانے کو
دور حاضر کا عشق ھے اک نیا رنگ دکھائے گا
زمانہ سنگ بھول جا تونے سمجھا ھے کیا دیوانے کو
اسد اسکا نام جب لیا ھے کسی نے اپنے پاس
آنکھ نم ھو آئی ھے دل خون رویا ھے زمانے کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






