فصیل ہجر کو مسمار تم کروگے کہ میں؟
Poet: عبدالحمید ہنر، ناسک، مہاراشٹر (انڈیا) By: Abdul Hameed Hunar, Nashik, Maharashtra, Indiaفصیل ہجر کو مسمار تم کروگے کہ میں؟
کہ راہ عشق کی ہموار تم کروگے کہ میں؟
کسی طرح تو مرے دل میں بات جا اُترے
دل رقیق کو تیار تم کروگے کہ میں؟
یہ روگ عشق کا دونوں کو ایک ساتھ ہوا
بتائو عشق کا اظہار تم کروگے کہ میں؟
تمہاری قید سے میں بے گناہ چھوٹا ہوں
یہ بات زینت اخبار تم کروگے کہ میں؟
سزائے عشق میں دار و رسن تو لازم ہیں١
تو خود کو پہلے سر دار تم کروگے کہ میں؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






