فطرت اسکی فطرت ہے
Poet: rubin biswas By: Rubin Biswas, Karachiفطرت اسکی فطرت ہے بیار کرنا
فطرت اسکی فطرت ہے
بیار کرنا
ابتدا محبت انتہا محت
سناس سنانس میں زکر محبت
آسمان سے محبت
زمین سے محبت
رنگوں سے محبت
چاندسے تارون ے سورج سے
کہان سے شروع کرون اسکی محبت
ے نہ محت کا سنمندر وسیع
لہر لہر محبت کنارہ کنارہ ڈوبا ھوا
محبت میں سرشار
فطرت بولے جیا
محبت بولے بیا
شوخ نٹ کھٹ جسم کو چھوتی ھوی
دس دیس کو چلی
جھونکوں کےساتھ جھومتی لہراتی
میرا جی چاھا جاکے دنکھوں کون ناچ رھا ے
فطرت بولے جیا
محبت بولے بیا
محبت نے اسکی قطرے ے سمندر کر دیا
خداکا شکر ہے برسات آئی
اللہ اللہ بھر بہار آئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






